بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || 'والدائی ڈائیلاگ کلب' کے 23 ویں سالانہ اجلاس کے عمومی سیشن میں پیوٹن نے ایرانی قوم کی کارکردگی کو سراہا اور ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق سیکرٹری شہید ڈاکٹر علی لاریجانی کے قتل کو "بڑی غلطی" قرار دیا۔

اسپوتنک (Sputnik) کے مطابق، انھوں نے ایرانی قیادت کے پاس موجود باصلاحیت افرادی قوت کے ذخیرے کی تعریف کی اور کہا: "پوری دنیا کی توجہ موجودہ واقعات پر مرکوز ہے اور سب ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور مزاحمت پر حیران ہیں۔"
پیوٹن نے مزید کہا: "ہم آبنائے ہرمز کے کھل جانے کی امید کرتے ہیں؛ اور ہمیں امید ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں ہٹا لی جائیں گی؛ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو ایران کا جائز حق بھی ہے۔"
روسی صدر نے شہید ڈاکٹر علی لاریجانی کے قتل کے بارے میں کہا: "علی لاریجانی کا قتل ایک بڑی غلطی تھی۔ میں انہیں ذاتی طور پر جانتا تھا۔ وہ ایک مثبت سوچ کے حامل انسان تھے اور ایسے حل پر بات چیت کے لئے تیار رہتے تھے جن سے ایرانی قوم کو فائدہ پہنچے۔"
17 مارچ 2026ع کو، ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی فوجی جارحیت اور اعلیٰ سطحی سیاسی و عسکری حکام کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی دہشت گردانہ مہم کے دوران، ناجائز صہیونی ریاست نے ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں جناب لاریجانی، ان کے بیٹے ڈاکٹر مرتضیٰ لاریجانی، ان کے نائب علی رضا بیات اور ان کے سیکیورٹی دستے کے کئی اہلکار شہید ہو گئے۔
اس اقدام پر دنیا بھر کے مختلف ممالک کی جانب سے منفی ردعمل سامنے آیا اور روسی حکام نے بھی شہید لاریجانی کے قتل کی شدید مذمت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ